ناروے کی حکومت مخصوص مقامات پر AI چشموں کا استعمال عارضی طور پر ممنوع کرنا چاہتی ہے، جہاں لوگوں کو علم ہوئے بغیر ان کی تصاویر، ویڈیو یا آواز ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ حکومت نے 5 اکتوبر کو کہا کہ وہ ناروے کی پارلیمان اسٹورٹنگ میں جلد از جلد بل پیش کرے گی۔ یہ پابندی تجویز کرنے کا منصوبہ ہے، نافذ ہو چکا ضابطہ نہیں۔
حکومت کے اعلان میں ان مقامات کی مثالیں دی گئی ہیں جہاں پابندی لاگو ہو سکتی ہے۔ ان میں پارک، ساحل، عجائب گھر، شاپنگ سینٹر اور عوامی تقریبات؛ اسکول، کنڈرگارٹن، کھیل کے میدان اور نوجوانوں کے کلب؛ اور وہ مقامات شامل ہیں جہاں رازداری خاص طور پر اہم ہے، مثلاً صحت کی سہولتیں اور ایسے جم جن میں کپڑے بدلنے کے کمرے یا شاور ہوں۔ جامعات اور کالج بھی زیرِ غور ہیں۔ یہ ممکنہ مقامات ہیں، ممنوعہ جگہوں کی حتمی فہرست نہیں۔
ممکنہ دائرے میں عام عوامی مقامات کے ساتھ ایسی سہولتیں بھی شامل ہیں جہاں کپڑے بدلنے کے کمرے یا شاور ہوں۔ حکومت کو تشویش ہے کہ چشمے آس پاس کے لوگوں کو خبر ہوئے بغیر تصاویر یا آواز ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کے وزیر تورگیر میکلسن نے کہا کہ عارضی اقدام ناروے کو ٹیکنالوجی کا جائزہ لینے اور مستقل ضابطے پر بحث کے لیے وقت دے گا۔
ابھی کیا طے ہونا باقی ہے
حکومت نے ابھی طے نہیں کیا کہ عارضی پابندی کن آلات پر لاگو ہوگی۔ اعلان کے مطابق حکام غور کریں گے کہ یہ پابندی کیمرے اور آڈیو ریکارڈنگ والے چشموں، کیمرے کے ساتھ AI خصوصیات رکھنے والے چشموں، یا کیمرہ، آڈیو ریکارڈنگ یا AI والے مزید وسیع قابلِ استعمال آلات پر لاگو ہونی چاہیے۔ یہ فرق صارفین اور جگہوں کے منتظمین کے لیے اہم ہے: “AI چشمے” کی اصطلاح ابھی مستقبل کے ضابطے کا دائرہ متعین نہیں کرتی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مکمل پابندی نہیں چاہتی۔ اسے توقع ہے کہ ٹیکنالوجی کچھ مقامات اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکے گی، اور وہ کمزور گروہوں اور سماجی طور پر مفید استعمال کے لیے محدود استثناؤں پر غور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حتمی الفاظ، مقامات، استثنا اور آغاز کی تاریخ کا انحصار بل اور اس کے بعد کے عمل پر ہوگا۔ 5 اکتوبر کا اعلان ان میں سے کسی تفصیل کو قانون کے طور پر قائم نہیں کرتا۔
اس کے علاوہ، حکومت پہننے کے قابل ٹیکنالوجی کا مطالعہ کرنے اور دیرپا قومی ضابطے کے بارے میں مشورہ دینے کے لیے ماہرین کا ایک گروپ مقرر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ طویل مدتی جائزہ مجوزہ عارضی اقدام کے ساتھ ساتھ چلے گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکومت کے منصوبوں اور اس غیر حل شدہ سوال پر آزادانہ رپورٹنگ کی کہ پابندی کہاں لاگو ہوگی۔
بڑی تبدیلی
ناروے AI چشموں پر تشویش ظاہر کرنے سے آگے بڑھ کر مقام کی بنیاد پر قانون سازی کی تجویز تیار کر رہا ہے۔ قریب موجود افراد کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا کسی مخصوص مشترکہ جگہ میں ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والا آلہ پہننے پر پابندی ہوگی۔ کسی مقام کے منتظم یا چشمے کے صارف کے لیے اگلی مفید دستاویز خود بل ہے: اس میں واضح ہونا چاہیے کہ کون سے آلات اور مقامات شامل ہیں اور استثنا کیسے لاگو ہوں گے۔ تب تک اعلان حکومت کی سمت دکھاتا ہے، ملک گیر نئی پابندی نہیں۔
ذرائع اور مزید مطالعہ
- ناروے کی حکومت، “AI چشموں پر عارضی پابندی متعارف کرانا چاہتی ہے” (5 اکتوبر 2026)۔ بنیادی اعلان میں پارلیمان میں مجوزہ قدم، ممکنہ مقامات کی مثالیں، ٹیکنالوجی کا غیر طے شدہ دائرہ، منصوبہ بند استثنا اور ماہرین کے گروپ کا ذکر ہے۔ یہ حکومت کے ارادے کا بیان ہے، منظور شدہ قانون نہیں۔
- ایسوسی ایٹڈ پریس، “رازداری کے خدشات کے باعث اسمارٹ چشمے زیرِ نظر، ناروے عارضی پابندی کا خواہاں” (5 اکتوبر 2026)۔ آزاد رپورٹ پالیسی کے مرحلے اور منتخب مقامات پر ممکنہ دائرے کی تصدیق کرتی ہے اور بحث کا پس منظر دیتی ہے۔ اس کی مثالیں حکومت کی ممکنہ فہرست کو حتمی قانون نہیں بناتیں۔



