جرمنی کی وفاقی کابینہ نے 7 اکتوبر کو ایک مسودۂ قانون منظور کیا جو رضامندی کے بغیر بنائی یا پھیلائی گئی نجی تصاویر کے خلاف فوجداری تحفظ کو وسعت دے گا۔ اس میں قابل شناخت افراد کی کمپیوٹر سے بنائی گئی جنسی نوعیت کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ یہ تجویز AI کے بغیر ہونے والی ڈیجیٹل بدسلوکی کی صورتوں کا بھی احاطہ کرتی ہے اور گمنام صارفین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور آن لائن حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عدالت کی نگرانی میں نئے طریقے فراہم کرے گی۔ اب اسے غور کے لیے Bundestag بھیجا جائے گا۔ مجوزہ تبدیلیوں میں سے کوئی بھی ابھی قانون نہیں بنی۔

تصویر بنانے اور اسے شیئر کرنے میں فرق اس مسودے کا مرکزی نکتہ ہے۔ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 184k کے مجوزہ متبادل میں بعض حقیقی نجی تصاویر کو غیر مجاز طور پر بنانا یا کسی دوسرے شخص کو دستیاب کرنا شامل ہوگا۔ اس میں کمپیوٹر سے بنائی گئی ایسی تصاویر بھی شامل ہوں گی جو کسی مخصوص شخص کو جنسی عمل کرتے یا جسم کے مخصوص حصے بے لباس دکھاتی معلوم ہوں۔ متن ایک شخص کے ساتھ نجی طور پر شیئر کرنے اور وسیع پیمانے پر پھیلانے، دونوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کی عبارت متعین نجی مواد کو نشانہ بناتی ہے؛ یہ ڈیپ فیکس بنانے پر عمومی پابندی نہیں۔

اہم تبدیلی

کابینہ نے فوجداری اور دیوانی تجاویز کے مجموعے کو پارلیمانی مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ تصاویر سے متعلق شق حقیقی نجی ریکارڈنگ کے ساتھ من گھڑت جنسی مناظر کا بھی واضح طور پر احاطہ کرتی ہے۔ دوسری شقیں تاک جھانک سے بنائی گئی تصاویر، شناخت کے غلط استعمال اور ڈیجیٹل نگرانی سے متعلق ہیں۔ دیوانی چارہ جوئی کے خواہش مند افراد کے لیے مسودہ ایسے طریقۂ کار شامل کرتا ہے جن کے تحت بعض صارف معلومات ظاہر کرنے یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ معطل کرنے سے پہلے جج کا حکم ضروری ہوگا۔ قانونی اثر اس بات پر منحصر ہے کہ پارلیمان آخرکار کیا منظور کرتی ہے اور کوئی قانون کب نافذ ہوتا ہے۔

فوجداری تجاویز میں کیا شامل ہے

مجوزہ دفعہ 184k جنسی سرگرمی یا جسم کے مخصوص بے لباس حصوں کی غیر مجاز تصاویر کا بھی احاطہ کرے گی۔ متعلقہ جسمانی حصے لباس سے ڈھکے ہوں تب بھی ان کی ریکارڈنگ شامل ہوگی، اگر تصویر کا زاویہ واضح طور پر انہیں جنسی رنگ دینے کے لیے ہو۔ سونا یا عوام کے لیے کھلے عریاں ساحل جیسے مقامات پر چوری چھپے فلم بندی اس شق سے متعلق ہے۔ یہ قواعد لوگوں کی ریکارڈنگ اور بنائی گئی تصاویر، دونوں پر لاگو ہیں؛ بل کا دائرہ AI کے استعمال پر منحصر نہیں۔

کابینہ کا مسودہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ حقیقی عصمت دری کی تصویری ریکارڈنگ تک غیر مجاز رسائی، اسے حاصل کرنے یا اپنے پاس رکھنے کے لیے الگ شق شامل کرتا ہے۔ یہ کمپیوٹر سے بنائی یا تبدیل کی گئی ایسی تصویر کسی دوسرے کو دستیاب کرنے کو جرم قرار دینے کی تجویز بھی دیتا ہے جو جھوٹا تاثر دے کہ اس میں کسی شخص سے متعلق حقیقی واقعہ دکھایا گیا ہے اور اس شخص کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ آخری جرم گمراہ کن مواد کی تقسیم سے متعلق ہے، صرف اسے بنانے سے نہیں۔ ایک اور مجوزہ جرم میں کسی حقیقی شخص کی شناخت کا جھوٹا روپ دھار کر ساکھ کو نقصان پہنچانے والا مواد پھیلانا شامل ہے۔ مواد کا AI سے بننا ضروری نہیں۔

نگرانی کی شق میں معلوماتی یا مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کے مقام یا سرگرمی کی بار بار یا مسلسل غیر مجاز نگرانی شامل ہوگی، اگر اس سے نمایاں نقصان پہنچ سکتا ہو۔ حکومت نے GPS ٹریکر کی مثال دی ہے۔ یہ تجاویز مسودے کی مختلف شقوں میں ہیں اور ان کی شرائط الگ الگ ہیں؛ صرف اسے “ڈیپ فیک قانون” کہنا پیکیج کے بڑے حصے کو نظرانداز کرتا ہے۔

عدالتی احکامات اور اگلا مرحلہ

دیوانی معاملات میں مسودہ کسی دعوے کی پیروی کرنے والے شخص کو یہ درخواست دینے کی اجازت دے گا کہ متعلقہ آن لائن سروس یا انٹرنیٹ رسائی فراہم کرنے والے کے پاس موجود ڈیٹا ظاہر کرنے کا حکم دیا جائے۔ بل میں محفوظ شدہ نام، پتا، ای میل پتا اور دستیاب ہونے پر انٹرنیٹ پروٹوکول ڈیٹا جیسی معلومات درج ہیں۔ معلومات افشا کرنے کی درخواست کے فیصلے تک شواہد محفوظ رکھنے کے عدالتی احکامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ سنگین مقدمات میں مزید خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہو تو جج سوشل نیٹ ورک اکاؤنٹ کی عارضی معطلی کا حکم دے سکتا ہے؛ الگ عدالتی حکم غیر قانونی مواد ہٹانے کا تقاضا کر سکتا ہے۔ یہ مشروط چارہ جوئی کے طریقے ہیں، خودکار اکاؤنٹ پابندیاں یا صارف ڈیٹا تک کھلی رسائی نہیں۔

Bundestag کو اب حکومتی مسودے پر بحث کرنی ہے اور وہ اس میں تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔ کابینہ کا متن نفاذ کی بنیادی تاریخ خالی چھوڑتا ہے اور قانون کے اعلان کے بعد کسی سہ ماہی کے پہلے دن کا تعین کرتا ہے۔ اس لیے ان مجوزہ تحفظات کے لاگو ہونے کی کوئی مقررہ تاریخ نہیں۔ جرمن ججوں کی انجمن نے خبردار کیا ہے، جیسا کہ Tagesschau نے رپورٹ کیا، کہ عدالتی عملے کی تعداد نفاذ پر اثرانداز ہوگی۔

ذرائع اور مزید مطالعہ