Tesla نے اپنے بیلجیم کے پروڈکٹ صفحےپر “Full Self-Driving” نام کو “Tesla Assisted Driving” سے بدل دیا ہے۔ جرمنی کے مطابق Tesla نے ستمبر میں نظام کی یورپی یونین کی سطح پر وسیع تر منظوری کے بارے میں بات چیت کے دوران نیا نام تجویز کیا۔ نام بدل گیا ہے؛ منظوری کا سوال اب بھی اس بات پر منحصر ہے کہ ڈرائیور کہاں ہے۔

بڑی تبدیلی

  • کیا بدلا: Tesla کی بیلجیم کی ویب سائٹ اب ڈرائیور معاون پیکیج کو Tesla Assisted Driving کہتی ہے۔ جرمنی کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ Tesla نے یورپی یونین کی سطح کے منظوری کے عمل پر بات چیت میں یہ نام تجویز کیا۔
  • یہ کیوں اہم ہے: “Full Self-Driving” سے یہ تاثر مل سکتا ہے کہ نظام ڈرائیونگ کی پوری ذمہ داری سنبھال لیتا ہے۔ جرمنی کہتا ہے کہ ایسا نہیں: ڈرائیوروں کو چوکس رہنا اور ذمہ داری قبول کرنا لازم ہے۔ نیا نام اس فرق کو زیادہ واضح کرتا ہے، لیکن ڈرائیور کی ذمہ داری نہیں بدلتا۔
  • کیا ابھی طے نہیں ہوا: جرمنی کے مطابق یورپی سطح پر منظوری پر بات چیت جاری ہے۔ بعض قومی منظوری پہلے سے موجود ہیں: Tesla کا بیلجیم کا صفحہ فی الحال کہتا ہے کہ وہاں نظام کو قانونی منظوری حاصل ہے۔ کسی ایک ملک کی یہ حیثیت پوری یورپی یونین میں منظوری سے الگ ہے۔

جرمنی کی وفاقی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا 6 اکتوبر کا بیان نظام کو ڈرائیور معاونت قرار دیتا ہے جو اسٹیئرنگ، رفتار بڑھانے اور بریک لگانے میں مدد کر سکتا ہے۔ اس کے مطابق ڈرائیور کو ہر وقت چوکس رہنا چاہیے اور گاڑی کو محفوظ طریقے سے چلانے کی 100 فیصد ذمہ داری اسی پر ہے۔ وزیر Steffen Bilger نے کہا کہ ستمبر میں Tesla کے ساتھ بات چیت کے بعد وہ یورپی منظوری کے عمل کو آگے بڑھانے کی حمایت کریں گے۔

ان بات چیت میں صرف نام زیرِ بحث نہیں تھا۔ وزارت کے مطابق اس اور Tesla نے اتفاق کیا کہ نظام مقررہ رفتار کی حد سے 10 فیصد تک تجاوز کر سکتا ہے اور جرمنی یورپی عمل میں اس طریقۂ کار کی حمایت کرے گا۔ یہ زیرِ بحث تجویز کے بارے میں وزارت کی وضاحت ہے۔ بیان یہ نہیں کہتا کہ رفتار کی یہ گنجائش اب یورپی یونین کا یکساں ضابطہ ہے یا سافٹ ویئر کا ہر ورژن اسے استعمال کرتا ہے۔

بیلجیم کا Tesla پروڈکٹ صفحہ جغرافیائی فرق کو واضح کرتا ہے۔ اس کے ڈچ زبان کے ورژن پر “Tesla Assisted Driving” عنوان ہے اور کہا گیا ہے کہ اب اسے قانونی منظوری حاصل ہے۔ کمپنی یہ بھی کہتی ہے کہ پیکیج صرف ان بازاروں میں فعال کیا جا سکتا ہے جہاں نگران اداروں نے منظوری دی ہو، اور موجودہ خصوصیات کے لیے بھی ڈرائیور کی فعال نگرانی ضروری ہے۔ کسی ایک ملک کا فیصلہ خود بخود پوری یورپی یونین میں دستیابی ثابت نہیں کرتا۔

پروڈکٹ میں AI کا ذکر Tesla کی اپنی وضاحت ہے، آزادانہ کارکردگی کا جائزہ نہیں۔ کمپنی کہتی ہے کہ گاڑی کے کیمرے 360 ڈگری منظر دیتے ہیں اور اس کا بصارت پر مبنی AI ڈرائیور کی نگرانی میں ڈرائیونگ کے فیصلے کرتا ہے۔ وزارت ان ڈرائیونگ کاموں کی نشاندہی کرتی ہے جن میں نظام مدد دیتا ہے، لیکن اس کا بیان نہ تکنیکی ساخت بتاتا ہے نہ AI کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیتا ہے۔ نام کی تبدیلی سافٹ ویئر اپ گریڈ کا ثبوت نہیں۔

ڈرائیوروں کے لیے عملی قدم مقامی Tesla صفحہ اور گاڑی کی اہلیت کی معلومات دیکھنا ہے۔ صرف نام سے معلوم نہیں ہوتا کہ نظام ان کے بازار میں منظور شدہ ہے، گاڑی میں فعال ہے یا نصب شدہ ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کے ساتھ دستیاب ہے۔ Tesla کا بیلجیم کا صفحہ کہتا ہے کہ وہاں منظوری حاصل ہو چکی ہے؛ جرمنی کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا بیان یورپی سطح پر باقی عمل بیان کرتا ہے۔

ذرائع اور مزید مطالعہ