WIRED کے اشاعتی شعبے کے دو درجن سے زیادہ کارکنوں کے انٹرویوز HarperCollins، Simon & Schuster اور Hachette میں کام کے دوران AI ٹولز کے داخل ہونے کی وضاحت کرتے ہیں۔ رپورٹ شدہ کاموں میں تشہیری تحریر اور ای میلز لکھنا، مارکیٹنگ مواد بنانا اور سرورق کے آرٹ میں حصہ لینا شامل ہیں۔ کارکنوں نے اپنی ملازمتیں محفوظ رکھنے کے لیے نام ظاہر کیے بغیر بات کی۔ ان کے بیانات ان کمپنیوں کے اندر مخصوص استعمال اور اختلافات دکھاتے ہیں؛ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کتنے ناشرین AI استعمال کرتے ہیں، شائع شدہ کتابوں میں ٹولز کتنی بار نظر آتے ہیں یا مصنفین نے ہر استعمال کی منظوری دی ہے۔

سب سے زیادہ واضح طور پر دستاویزی تنازع ایک مختلف قسم کے ٹول سے متعلق ہے۔ Simon & Schuster کے ملازمین کام کے طریقوں کا تجزیہ کرنے کے لیے Skan AI کے Blueprint کے ممکنہ استعمال کی مخالفت میں خط پر دستخط جمع کر رہے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو Greg Greeley نے تصدیق کی کہ کمپنی اس پروڈکٹ کا جائزہ لے رہی تھی، پھر 6 اکتوبر کو ملازمین سے کہا کہ Blueprint یا کسی دوسرے پیداواری نگرانی یا ورک فلو تجزیے کے ٹول کے استعمال کا فیصلہ نہیں ہوا۔ Publishers Weekly نے میمو کا حوالہ دیا جب کمپنی کے ترجمان نے اسے اس اشاعت کے ساتھ شیئر کیا۔

اہم تبدیلی

  • کیا بدلا: WIRED کی 9 اکتوبر کی رپورٹ میں کتابی تشہیر اور دوسرے پیداواری کاموں میں AI کے استعمال پر ملازمین کے بیانات کے ساتھ Simon & Schuster میں ممکنہ ورک فلو تجزیاتی پروڈکٹ کی مخالفت بھی شامل ہے۔
  • یہ کیسے ہو رہا ہے: بیانات ملازمین کے زبان کے ماڈل استعمال کرنے، کمپنی کی جانب سے منظور شدہ ٹولز تک رسائی دینے اور ابھی زیرِ جائزہ پروڈکٹ میں فرق کرتے ہیں۔ یہ اپنانے کے الگ الگ مراحل ہیں۔
  • یہ کیوں اہم ہے: تشہیری تحریر اور خط و کتابت مصنفین، ایجنٹس، کتاب فروشوں اور قارئین کے سامنے ناشر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ملازمین پوچھتے ہیں کہ اس کام کے لیے AI کون استعمال کر سکتا ہے، کیا ظاہر کرنا ضروری ہے اور کیا ورک فلو کا مطالعہ کرنے والا سافٹ ویئر کارکنوں کی جانچ کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
  • کیا ابھی غیر واضح ہے: یہ انٹرویوز صنعت میں پھیلاؤ کی پیمائش نہیں کرتے۔ Simon & Schuster کا کہنا ہے کہ Blueprint یا اسی نوعیت کے نگرانی ٹول کو اپنانے کا فیصلہ نہیں ہوا۔

کارکنوں کے مطابق یہ ٹول کیا کر رہے ہیں

HarperCollins کے کارکنوں نے WIRED کو بتایا کہ کمپنی نے Claude کے لائسنس خریدے اور ChatGPT اور Jasper تک بھی رسائی حاصل کی۔ ایک کارکن نے بتایا کہ اجلاسوں میں عملے کو ٹولز کے استعمال تلاش کرنے کا کام دیا گیا۔ دوسرے نے کہا کہ ایک شعبہ مارکیٹنگ ویڈیوز بنانے کے لیے AI استعمال کر رہا تھا۔ یہ ملازمین کے بیانات ہیں، پوری کمپنی کی فہرست نہیں۔ HarperCollins نے WIRED کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

تینوں ناشرین کے کارکنوں نے WIRED کو AI سے بنائی گئی تشہیری تحریر کے بارے میں بتایا۔ ادبی ایجنٹس کو شبہ تھا کہ بعض مدیران نے انکار کے ای میل لکھنے کے لیے AI استعمال کیا؛ کمپنیوں کے ملازمین نے WIRED کو بتایا کہ ان کے خیال میں ایسا ہوا تھا۔ الفاظ کے انداز سے پیدا ہونے والا شبہ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ کوئی مخصوص ای میل کیسے لکھی گئی۔ غیر شائع شدہ مسودوں کو بیرونی ماڈلز میں چسپاں کیے جانے کی تشویش بھی اس بات کے ثبوت سے الگ ہے کہ ایسا ہوا۔ HarperCollins کے ایک ذریعے نے کہا کہ مکمل مسودے بیرونی طور پر منسلک ماڈلز پر اپ لوڈ کرنے کے بارے میں پوچھنے والے مدیران کو کمپنی کی قانونی ٹیم نے ایسا نہ کرنے کا کہا تھا۔

ناشرین کی بیان کردہ حدود مختلف ہیں۔ Hachette نے WIRED کو بتایا کہ وہ ان عملی مقاصد کے لیے AI کی حمایت کرتا ہے جو مصنفین کی کتابیں قارئین تک پہنچانے میں مدد دیں، مگر تخلیقی استعمال کی مخالفت کرتا ہے، جس میں مصنفین اور شراکت داروں سے رابطہ بھی شامل ہے۔ Simon & Schuster کی مارکیٹنگ اور کمیونیکیشن کی سربراہ Wibke Grutjen نے کہا کہ ملازمین محدود تعداد میں منظور شدہ انٹرپرائز ٹولز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، استعمال اختیاری ہے اور غیر جانچے ٹولز ممنوع ہیں۔ ان میں سے کوئی بیان یہ ثابت نہیں کرتا کہ انفرادی خط و کتابت یا مارکیٹنگ کے کام میں پالیسی کتنی مستقل طور پر نافذ ہوتی ہے۔ WIRED کے گمنام بیانات میں کچھ ملازمین خود کو تجربہ کرنے پر مجبور محسوس کرتے ہیں اور کچھ بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ پر ٹولز استعمال کرتے ہیں۔

ایک تجویز جسے ملازمین روکنا چاہتے ہیں

یہ Simon & Schuster ملازمین کا دستخطی فارم کہتا ہے کہ مختلف شعبوں کے ملازمین نے خط لکھا اور 250 دستخط جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس میں اسکرین سرگرمی، رازداری اور ایسے سافٹ ویئر پر تشویش ہے جو خودکار کیے جا سکنے والے کاموں کی شناخت کر سکتا ہے۔ یہ ممکنہ نظام اور اس کے خطرات کے بارے میں خط لکھنے والوں کا بیان ہے، پوری کمپنی میں نفاذ کا ثبوت نہیں۔ فارم کا یہ دعویٰ کہ منصوبہ بظاہر KKR کے کہنے پر آیا، خط لکھنے والوں کا الزام بھی ہے؛ دستیاب رپورٹنگ KKR کے کردار کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتی۔

Greeley کا میمو کمپنی کا مؤقف پیش کرتا ہے۔ Publishers Marketplace نے 7 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ انہوں نے Blueprint کو موجودہ کام کا جائزہ لینے کے ایک ممکنہ طریقے کے طور پر بیان کیا۔ Publishers Weekly کی رپورٹ ان کے اس بیان کا حوالہ دیتی ہے کہ فیصلہ نہیں ہوا اور پوری کمپنی میں نفاذ نہ جاری تھا نہ زیرِ غور۔ انہوں نے ابتدائی جائزے کا مقصد انفرادی کارکردگی کی نگرانی نہیں بلکہ بار بار ہونے والے کام کم کرنا بتایا۔ میمو کمپنی کا بیان کردہ مؤقف درج کرتا ہے، جبکہ خط اس ٹیکنالوجی کی ممکنہ صلاحیتوں پر ملازمین کے اعتراضات محفوظ کرتا ہے۔

مصنفین اور ملازمین کے لیے عملی سوالات اب واضح ہیں: کون سے ٹولز منظور ہیں، کیا انہیں غیر شائع شدہ کام یا مصنفین کو بھیجے پیغامات پر استعمال کیا جاتا ہے، اور AI سے معاونت یافتہ تشہیر کے ساتھ کون سا نوٹس دیا جاتا ہے۔ WIRED کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کئی بڑے ناشرین میں یہ سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں۔ یہ صنعت بھر میں اپنانے کی شرح نہیں دیتی اور Simon & Schuster کی تجویز کا انجام طے نہیں کرتی۔

ذرائع اور مزید مطالعہ