The Guardian نے آسٹریلیا میں 28 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ کچھ جامعات عملے کو جانچ اور فیڈبیک میں AI استعمال کرنے دیتی ہیں، جس سے تعلیمی عملے اور طلبہ نے جانچ کے معیار پر سوال اٹھائے۔ خود جامعات کی دستاویزات میں واضح فرق ہے: AI فیڈبیک تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جانچ کے عمل کا حصہ بن سکتا ہے، یا اسے نمبر دینے سے مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔ طالب علم کو پھر بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آیا کسی استاد نے اس کے کام کو پڑھ کر اس پر رائے قائم کی ہے۔

بڑی تبدیلی

  • کیا بدلا ہے: آسٹریلوی جامعات واضح کر رہی ہیں کہ تدریسی جانچ میں جنریٹو AI کہاں استعمال ہو سکتا ہے۔ Newcastle نظرثانی، پیشگی اطلاع اور انکار کے اختیار جیسی شرطوں کے ساتھ اسے جانچ میں استعمال کرنے دیتی ہے؛ UNSW اصولاً جانچ یا گریڈ دینے کے لیے AI پلیٹ فارم استعمال نہ کرنے کی ہدایت دیتی ہے۔
  • یہ کیوں اہم ہے: طالب علم کو AI کی مدد سے تیار کردہ فیڈبیک مل سکتا ہے، جبکہ آخری نمبر دینے کا اختیار AI نظام کے پاس نہ ہو۔ یہ فرق اس بات پر منحصر ہے کہ استاد حقیقتاً کیا جانچتا ہے اور کام جمع کرانے سے پہلے طالب علم کو کیا بتایا جاتا ہے۔
  • کس بات پر نظر رکھیں: جب عملہ جانچ میں جنریٹو AI استعمال کرے تو Newcastle اور Melbourne پیشگی اطلاع اور انکار کا راستہ دینے کا تقاضا کرتی ہیں۔ ان کی عوامی رہنمائی سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ طلبہ کو یہ اطلاع کتنی بار ملتی ہے یا عملہ نتائج کا جائزہ کیسے لیتا ہے۔

Newcastle طلبہ کو واضح طور پر انکار کا اختیار دیتی ہے

University of Newcastle کی تدریس، سیکھنے اور جانچ میں جنریٹو AI کے استعمال سے متعلق موجودہ پالیسی کہتی ہے کہ طالب علم کے کام کی جانچ کے لیے AI استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، الا یہ کہ کورس کا ممتحن یا منتظم طالب علم سے نتیجہ بانٹنے سے پہلے اس کا جائزہ لے کر منظوری دے۔ عملے کو کام جمع کرانے کی آخری تاریخ سے پہلے طلبہ کو جانچ میں AI کے استعمال کے بارے میں بتانا اور انکار کا طریقہ سمجھانا چاہیے۔ جو طالب علم انکار کرے، اس کے کام کو جنریٹو AI کے ذریعے نہیں جانچنا چاہیے۔ یہ پالیسی کورس ورک کی تدریس، سیکھنے اور جانچ پر لاگو ہوتی ہے؛ اس کا موجودہ نسخہ 29 اپریل 2025 سے نافذ ہوا۔

Newcastle کی عملے کے لیے اکثر پوچھے جانے والے سوالات، آخری بار 10 فروری 2025 کو اپ ڈیٹ ہوئے، مزید کہتے ہیں کہ نمبروں کی درستگی کی ذمہ داری عملے پر رہتی ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ استاد AI سے فیڈبیک کا مسودہ تیار کروا کر اس کا جائزہ لیتے اور ترمیم کرتے ہیں؛ ساتھ ہی افادیت، رازداری اور دانشورانہ ملکیت سے متعلق ایسے سوالات بھی درج ہیں جن کے جواب نہیں دیے گئے۔ یہ رہنمائی میں دی گئی مثالیں اور احتیاطیں ہیں، اس بات کا شائع شدہ پیمانہ نہیں کہ کتنے اسائنمنٹس اس طرح جانچے جاتے ہیں۔

Melbourne منظوری اور طالب علم کے انتخاب کے ساتھ معاونت کی اجازت دیتا ہے

Melbourne کے عملے کے لیے رہنمائی کہتی ہے کہ فیکلٹی کے ایسوسی ایٹ ڈین کی توثیق لینے کے بعد عملہ جانچ یا فیڈبیک میں مدد کے لیے جامعہ کے محفوظ ٹولز استعمال کر سکتا ہے۔ انہیں طلبہ کو بتانا ہوگا کہ کون سے ٹولز استعمال ہوں گے اور انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔ رہنمائی کے مطابق، تشخیصی فیصلوں اور فیڈبیک کی ذمہ داری عملے پر رہتی ہے، اسے AI کے نتائج کا جائزہ لینا ہوگا، اور نئے جنریٹو AI ٹول کو تنہا نمبر یا گریڈ دینے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

Melbourne اپنے پہلے سے موجود جامعہ سطح کے جانچ ٹولز—جن میں خودکار کثیر الانتخابی سوالات کی جانچ شامل ہے—کو نئے جنریٹو ٹولز کے مجوزہ استعمال سے الگ رکھتا ہے۔ انکار سے متعلق رہنمائی کہتی ہے کہ طالب علم کو جانچ اور فیڈبیک میں صرف تعلیمی عملے کے فیصلے پر انحصار کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس، UNSW کی تدریسی عملے کے لیے رہنمائی کہتی ہے کہ اصولاً ممتحن جانچ یا گریڈ دینے کے لیے AI پلیٹ فارم استعمال نہ کریں۔ یہ کورس منتظمین کو الگ سے ہدایت دیتی ہے کہ وہ ممتحنین، بشمول عارضی عملے، کو بتائیں کہ مخصوص کورس میں AI کا کون سا استعمال جائز ہے۔ تدریس کے دوسرے کاموں کے لیے ٹولز کی منظوری سے جانچ کے بارے میں یہ ہدایت تبدیل نہیں ہوتی۔

Western Sydney جانچ کی ذمہ داریاں عملے پر رکھتی ہے

Western Sydney University کی موجودہ AI پالیسی، جو 30 جولائی 2024 سے نافذ ہے، عملے اور طلبہ دونوں پر لاگو ہوتی ہے اور جہاں ماحول یا کردار کے لحاظ سے AI کے ضابطے بدلتے ہوں وہاں واضح رہنمائی کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ پالیسی خود Newcastle جیسا جانچ سے انکار کا اختیار یا AI سے بنے گریڈ کے بارے میں تفصیلی قاعدہ مقرر نہیں کرتی۔ اس کی جانچ کی پالیسی، جو یکم جنوری 2026 سے نافذ ہے، فیڈبیک کے معیار اور یکساں جانچ کی ذمہ داری تعلیمی عملے اور اسکولوں پر رکھتی ہے۔ Western Sydney کے ترجمان نے The Guardian کو بتایا کہ عملہ جانچ اور فیڈبیک کے بعض پہلوؤں میں AI استعمال کر سکتا ہے، لیکن نمبروں، گریڈز اور فیڈبیک کے بارے میں تعلیمی فیصلہ اور ذمہ داری تدریسی عملے ہی کی ہے۔ یہ اخبار میں نقل کیا گیا ادارے کا بیان ہے، AI پالیسی میں لکھی گئی تفصیل نہیں۔

Deakin انسانی رہنمائی کے اصول مقرر کرتی ہے

Deakin کی ذمہ دارانہ AI استعمال کی پالیسی، جو 12 مارچ 2026 سے نافذ ہے، عملے، طلبہ اور وابستہ افراد پر لاگو ہوتی ہے۔ اس میں انسانی رہنمائی کے تحت فیصلے، AI کے نتائج کا جائزہ اور تدریس میں AI استعمال ہونے پر شفاف گفتگو کا تقاضا ہے۔ یہ AI سے معاونت یافتہ جانچ کے لیے انکار کا اختیار یا جائز طریقۂ جانچ متعین نہیں کرتی۔ The Guardian نے Deakin کا مؤقف یوں بیان کیا کہ جانچ میں AI مدد دے سکتا ہے، لیکن گریڈ نہیں دے سکتا۔ گریڈ دینے کی یہ مخصوص حد اخبار کی رپورٹ سے آتی ہے؛ عوامی پالیسی میں وسیع تر اصول بیان کیے گئے ہیں۔

یہ فرق عملے اور طلبہ دونوں کے لیے اہم ہے۔ The Guardian کے انٹرویوز میں Western Sydney کے قانون اور ٹیکنالوجی کے لیکچرر Armin Alimardani نے خدشہ ظاہر کیا کہ AI کے نتائج کی تصدیق کی شرط عملی طور پر کمزور پڑ سکتی ہے، جبکہ QUT کے ماہرین نے عارضی عملے کے جانچ کے کام کے بارے میں تشویش بتائی۔ یہ رپورٹ شدہ خدشات ہیں، غلطیاں نظر سے گزرنے کی مشاہدہ شدہ شرح یا ملازمتوں میں کمی کے شواہد نہیں۔ یہاں موازنہ کی گئی دستاویزات اور انٹرویوز میں سے کوئی بھی یہ ثابت نہیں کرتا کہ AI سے جانچ میں وقت بچتا یا درستگی بہتر ہوتی ہے۔

آسٹریلیا کا نگران ادارہ TEQSA کہتا ہے کہ وہ جانچ کی کوئی خاص شکل لازمی قرار نہیں دیتا؛ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو طلبہ کے علم اور سمجھ بوجھ کی جانچ کرنا ہوتی ہے۔ اس کا جنریٹو AI سے متعلق وسائل کا مرکز اداروں کے طریقوں کو غور کے لیے پیش کرتا ہے، قومی سطح پر ایسا ضابطہ نہیں جو AI سے جانچ کی اجازت دے یا اسے ممنوع کرے۔ اس لیے طالب علم کے لیے قابلِ عمل جواب جامعہ کا موجودہ ضابطہ اور اس مخصوص جانچ کے ساتھ دی گئی اطلاع ہے۔

ماخذ اور مزید مطالعہ